23 مئی 2011 - 19:30

طالبان راہنما ملا محمد عمر کرم ایجنسی کے لوئر کرم صدہ کے مقام پر ہلاک ہو گئے ہیں، میڈیا رپورٹس

ابنا: ایک اعلٰی انٹیلیجنس اہلکار نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کے شرط پر بتایا کہ ملا عمر جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات طوری قبیلے کے ساتھ جھڑپ میں اس وقت ہلاک ہو گئے تھے، جب وہ وزیرستان سے آنے والے طالبان لشکر سمیت صدہ سے متصل شیعہ گاؤں بالش خیل پر حملے کی قیادت کر رہے تھے۔وزیرستان سے کرم آنے والے ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق طالبان کمانڈر ملا عمر کرم ایجنسی کے لوئر کرم صدہ کے مقام پر ہلاک ہو گئے ہیں۔

شیعیان پاراچنار نے وزیرستان سے آنے والے طالبان لشکر کی بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے پانچ افراد کی قربانی دے کر حملہ پسپا کر دیا تھا، جبکہ پسپا ہونے والے طالبان اپنے ساتھ درجنوں ہلاک ہونے والے ساتھیوں کی لاشیں بھی لے کر گئے تھے، جس میں طالبان کے کمانڈر ملا عمر بھی شامل تھے۔ انٹیلجنس اہلکار نے افغانستان میں طالبان کے ترجمان کی طرف سے تردید کے بارے میں کہا کہ طالبان کے ترجمان اگر اپنے موقف میں سچے ہیں تو وہ ملا عمر کی ویڈیو یا آڈیو کیوں شائع نہیں کرتے؟ در اصل ملا عمر کی ہلاکت کا اعلان کر کے طالبان اپنے ساتھیوں کا موروال کمزور نہیں کرنا چاہتے۔ اس سے پہلے بھی گذشتہ چار سالوں کے دوران کئی اہم افغان طالبان کمانڈرز بشمول (نصر اللہ منصور کا بیٹا) سیف الرحمن منصور شیعیان کرم پر پر حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے، جن کی ہلاکت کی ابتدائی دنوں میں طالبان نے تردید لیکن بعد میں خود ہی تصدیق کر دی تھی۔ یاد رہے کہ یاد رہے کہ قبل ازیں بھی القاعدہ کا کمانڈر نمبر 4 ابواللیث اللیبی کے بارے میں اطلاع تھی کہ وہ بھی کرم ایجنسی میں ہی ہلاک ہوگیا تھا مگر حکومت اس کی لاش شمالی وزیرستان لے گئی اور اعلان کیا کہ وہ پاک فوج کے حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کرم ایجنسی کا انتہائی اہم شہر صدہ جو شیعہ قبائل کی ملکیت ہے، سن 1980ء کے عشرے سے افغانستان کے صوبہ خوست اور دارالحکومت کابل میں امریکی سی آئی اے کی طرف سے روس کے خلاف جہادیوں کے بیس کیمپ اور عبدالرسول سیاف و اسامہ بن لادن و القاعدہ کا مرکز رہا ہے۔ امریکی سی آئی اے اور اس کے پارٹنر جنرل ضیاء نے سن اسی کے عشرے میں جہادیوں کی مدد سے شیعہ قبائل پر جنگ مسلط کر کے صدہ شہر میں شیعہ نسل کشی کا ارتکاب کرکے بچوں و خواتین کو بے دردی سے قتل کروایا اور باقیماندہ خاندانوں کو ریاستی سرپرستی میں صدہ شہر سے بے دخل کر دیا گيا، جو گذشتہ تیس سالوں سے آئی ڈی پیز کی صورت میں پاراچنار میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ تاہم سوات اور فاٹا کے دیگر علاقوں کے آئی ڈی پیز کے ساتھ ہر ممکن مدد و تعاون کے باوجود حکومت و دیگر تنظیموں نے صدہ سے جبری بے دخل شیعہ قبائل تیس سالوں سے آئی ڈی پیز کا پوچھا تک نہیں اور نہ ہی انہیں اپنے ملکیتی علاقے صدہ میں آباد کرنے کی کوشش کی گئی، جو لمحہ فکریہ ہے۔

بشکریہ از اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت